Home Health ہر ہفتے اس مزیدار گری کو کچھ مقدار میں کھانا جان لیوا...

ہر ہفتے اس مزیدار گری کو کچھ مقدار میں کھانا جان لیوا امراض قلب سے بچا سکتا ہے

0
یہ گری صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہے / فائل فوٹو

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ایک کروڑ 79 لاکھ افراد امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔

درحقیقت امراض قلب سے ہر سال دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں اور ان امراض کا خطرہ بڑھانے یا تحفظ فراہم کرنے میں متعدد عناصر کردار ادا کرتے ہیں۔

اس حوالے سے غذا کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور غذائی عادات میں تبدیلی سے امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

بس ہر ہفتے کچھ مقدار میں اخروٹ کو کھانا عادت بنالیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ کھانے کی عادت لمبی عمر کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور کسی بھی وجہ بشمول امراض قلب سے موت کا خطرہ کم کرتی ہے۔

اس تحقیق میں اخروٹ کھانے اور اوسط عمر کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی گئی۔

اس تحقیق میں 93 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 60 سال سے زائد تھی مگر وہ سب صحت مند تھے اور ان میں تحقیق کے آغاز میں کینسر، امراض قلب یا فالج کی تاریخ نہیں تھی۔

ان افراد کی صحت کا جائزہ 1998 سے 2018 تک لیا گیا جس دوران ہر 4 سال میں ان سے غذا اور طرز زندگی کی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں، جیسے معلوم کیا گیا کہ وہ اخروٹ یا دیگر گریوں کا استعمال کتنا کرتے ہیں، ورزش کرنا پسند کرتے ہیں یا تمباکو نوشی کے عادی تو نہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 5 یا اس سے زائد بار اخروٹ کھانے سے امراض قلب سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔

اخروٹ کھانے سے جسم کو پروٹین، فائبر، میگنیشم، اومیگا 3 فیٹی ایسڈز اور دیگر غذائی اجزا ملتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتے میں 5 یا اس سے زائد بار اخروٹ کھانے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 14 فیصد جبکہ امراض قلب سے موت کا خطرہ 25 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

یہاں تک کہ ہر ہفتے 2 سے 4 بار اخروٹ کھانے سے بھی یہ خطرہ 13 سے 14 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ہم نے تحقیق سے یہ جانا کہ ہر ہفتے کچھ مقدار میں اخروٹ کھانے سے لمبی عمر کے حصول میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صحت کو بہتر بنانے کے خواہشمند افراد کے لیے بہت آسان طریقہ ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل نیوٹریشنز میں شائع ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here