Home Azad Kashmir کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ کے زیراہتمام 08 اکتوبر2005 کے زلزلہ کی یاد میں...

کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ کے زیراہتمام 08 اکتوبر2005 کے زلزلہ کی یاد میں 20 ویں سالانہ برسی کی تقریب اخترآباد جڑی کس کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس میں منعقد ہوئی

0
فوٹو: فائل

کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ کے زیراہتمام 08 اکتوبر2005 کے زلزلہ کی یاد میں 20 ویں سالانہ برسی کی تقریب اخترآباد جڑی کس کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس میں منعقد ہوئی جس میں پیرثاقب اقبال شامی، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) اعظم خان،سابق وزیر حکومت چوہدری رخسار احمد،چیئرمین ضلع کونسل میرپور راجہ نوید اختر گوگا،ڈی جی ادارہ ترقیات محمود ممتاز راٹھور،ڈائریکٹر امور دینیہ مفتی نذیر احمد،سابق چیئرمین تعلیمی بورڈ میرپور پروفیسر ظہیرچوہدری، سابق اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیومیرپورمحمدشکیل خان،ایس سی او کے کمانڈنگ آفیسر کرنل عدیل ملک،صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن جاوید نجم الثاقب ایڈووکیٹ،سابق امیدوار اسمبلی شہزادہ اقبال،ایم ایس ڈاکٹر عامر عزیز،ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات سردار ادریس خان،چیمبر آٖف کامر س کے صدر عمر شہزاد جرال، علامہ زبیراحمد نقشبندی،چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن راجہ شیر از خان،چیف آفیسر مغیث ریاض،ڈی ای او نسواں فرح اویس،ممبر ضلع کونسل چوہدری محمد بنارس اعظم،اے جے کے بنک کے ڈائریکٹر راجہ محمد وسیم خان،انفارمیشن آفیسر محمد جاوید ملک، مسٹ کے پروفیسر ڈاکٹر رضوان اللہ خان، پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز کے صدر مرزا وجاہت بیگ،سابق صدر بار راجہ امتیاز حسین خان ایڈووکیٹ کے علاوہ سیاسی سماجی شخصیات،سرکاری محکموں کے افسران و ملازمین،مختلف سماجی تنظیموں کے سربراہان،برطانیہ، یورپ،دوبئی سمیت بیرون ممالک، پاکستان اور آزادکشمیربھرسے اہم شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ کے بچوں نے تحریک آزادی کشمیر، زلزلہ کی تباہ کاریوں، پاک فوج کی جراتمندانہ اقدامات، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی افواج کے ہاتھوں مظلوم کشمیریوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی عکاسی پرٹیبلوشو،قوالیاں اورملی نغمے اور ڈرامے پیش کیے جبکہ زلزلہ متاثرہ بچوں اور بچیوں نے اپنے پیاروں سے بچھڑنے اور کورٹ میں آکر اپنی تعلیم و تربیت اور رہائش اختیار کر نے سمیت دکھی داستانیں بیان کیں جس پر مجمع پر سکتہ طاری ہو گیااور سامعین کی آنکھیں اشک بار ہو گئی۔

ٍ چیئرمین کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ چوہدری محمداخترنے اپنے خطاب میں کہاکہ 2005 کے زلزلہ میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کے لیے ایک کرایہ کی بلڈنگ سے شروع ہونے والاسفر20 سال کے بعد کامیابی کی طرف گامزن ہے جس کاسہراان یتیم بے سہارا بچوں اور ان کی کفالت کی ذمہ داری کرنے والے افراد کے سرہے جنھوں نے ان بچوں کے لیے دل کھول کرعطیات دیئے اور آج کورٹ دنیا میں ایک مثالی ادارہ بن گیاہے۔ میرپور کی طرح خیبر پختوانخواہ میں صوابی میں کورٹ 2مکمل ہو گیا ہے۔

چیئرمین کورٹ چوہدری محمد اختر نے کہا کہ 2005کے ہولناک زلزلہ کی تباہ کاریوں کا سن کر ہم نے برطانیہ میں زلزلہ متاثرہ افراد کی مالی معاونت کے لیے ایک لاکھ 18ہزار پونڈ لے کر زلزلہ متاثرہ علاقوں میں گیا تو اس وقت مجھے زبان بھی نہیں آتی تھی اور نہ ہی کسی کے ساتھ کوئی تعلق تھا۔ مالی امداد کے دوران جب زلزلہ متاثرہ شیر خوار بچوں کو بے یار و مدگار دیکھا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ان بچوں کی کفالت کا اہتمام کرنا چاہیے وہ میری زندگی میں تبدیلی کا اہم قدم تھا جس میں میری تقدیر بدل گئی میں نے زلزلہ متاثرہ بچوں کے لیے یتیم خانہ نہیں بلکہ ایک گھر بنانا تھا اور ان کی تعلیم و تربیت کرنا تھی جس کے لیے میں مخیر حضرات سے رابطہ کیا تو وہ مجھے دیوانے کا خواب کہتے تھے۔سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد نے مجھے جڑی کس میں 100کنال رقبہ دیااور 2016میں کرایہ کی بلڈنگ سے اختر آباد کورٹ کمپلیکس میں شفٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ کورٹ کمپلیکس کی تعمیرکا کام یتیم بچوں کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم کی وجہ سے تکمیل تک پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2005میں کرایہ کی بلڈنگ سے لے کراس عالی شان محل تک کے سفر میں اتار چڑھاؤ آتے رہے لیکن میں نے اپنی ہمت نہیں ہاری اپنی فیملی کو چھوڑ کر میں ان پھول جیسے بچوں کے لیے زمین پر جنت کا ٹکڑا بنانے میں لگا رہا اور بالآخر 2016میں کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس مخیر خضرات کے تعاون سے 50کروڑ روپے کی لاگت سے پایہ تکمیل تک پہنچا۔مجھ سمیت کورٹ انتظامیہ نے کبھی بھی امانت میں خیانت نہیں کی اور نہ آئندہ کریں گے۔صوابی کورٹ ایک ملین پونڈ سے تعمیر کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس کاروان میں دنیا بھر کے وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے کورٹ کمپلیکس دیکھا بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ میرا نہیں اور نہ ہی میری وراثت ہے اس کے مالک آپ سب لوگ ہیں جنھوں نے اس ادارے کو قیامت تک چلانا ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے بعد کورٹ کو چلانے والے اب یہی یتیم بچے ہیں جن کی پرورش اس ادارے نے کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کے لیے عالی شان محل اوردنیا کی تمام تر خوشیاں ان بچوں کو مل رہی ہیں اس طرح وطن عزیز پر جب بھی کوئی دورافتادہ مصیبت یا قدرتی آفات آتی ہیں تو کورٹ بحالی اور ریلیف میں سرفہرست ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورٹ کے زیر اہتمام ہزاروں فلاحی و رفاعی پراجیکٹ شروع ہیں۔حالیہ سیلاب کے بعد کورٹ ریلیف کے کاموں میں صف اول میں آیا انہوں نے کہا کہ بیوہ خواتین کے لیے گھر بنائے جا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کا پہلا برن سنٹر کوٹلی میں تعمیرکیا گیا ہے۔اب غریب اور بے بس لوگوں کے علاج معالجہ کے لیے جاتلاں میں 12ارب روپے کی لاگت سے ایک جدید ہسپتال تعمیر کررہے ہیں جہاں دنیا کی تمام بیماریوں کا علاج معالجہ اور سہولیات ہو نگی۔اس ہسپتال کا سنگ بنیاد وزیر اعظم پاکستان میاں محمدشہباز شریف رکھیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتازمذہبی سکالر عالمی مبلغ شیخ ثاقب اقبال شامی نے قرآن و حدیث کے حوالے سے یتیم بچوں کی کفالت سمیت انسانیت کی بقا اور ترقی کے لیے کورٹ کے زیر اہتمام رفاعی و فلاحی منصوبہ جات کے پایہ تکمیل پر چیئرمین چوہدری محمد اختر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ کورٹ میں یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور رہائش سمیت دیگر سہولیات بین الاقوامی معیارکے مطابق ہیں۔چوہدری اختر نے سنت نبیﷺ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔یتیم بچوں کو کھانا تو ہر کوئی کھلا سکتاہے لیکن خوشیاں کوئی نہیں دے سکتا۔چوہدری اختر نے ان بچوں کی کفالت سمیت اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور زندگی کی تمام خوشیاں دے رکھی ہیں یہ ایک بہت بڑا فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فتنوں کے اس دور میں کچھ لوگ خدائی منکر ہو رہے ہیں ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے گھر بار،تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں دین اسلام اور سنت رسول ﷺ کی مکمل پیروی پر عملدرآمد کروانا ہو گا۔دین کی دوری کے باعث کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی حقیقت سے بھی انکار کر کے دینی فتنے کی طرف چل نکلے ہیں جن سے ہمیں خود بھی اور اپنے قوم کے معماروں کو بھی محفوظ رکھنا ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here