Home Azad Kashmir غزل —جن رستوں میں پھول کِھلے تھے وہ اِتنے پُرخار ہیں کیوں—محمد...

غزل —جن رستوں میں پھول کِھلے تھے وہ اِتنے پُرخار ہیں کیوں—محمد رفیق بھٹی

1
محمد رفیق بھٹی—فائل فوٹو

غزل

جن رستوں میں پھول کِھلے تھے وہ اِتنے پُرخار ہیں کیوں
جان نچھاور کرنے والے اب ہم سے بیزار ہیں کیوں

پریم نگر کے بسنے والے من مندر کے سُندر لوگ
کس نگری میں جا بیٹھے ہیں انجانے لا چار ہیں کیوں

برکھا رُت میں دُھند پہن کر جو ملنے کو آتے تھے
موسمِ گُل میں وہ دل والے غیروں کے دلدار ہیں کیوں

جن کو نہیں معلوم ابھی آداب کسی میخانے کے
ایسے مے کش میخانے میں پینے کے حقدار ہیں کیوں

نغموں میں تاثیر نہیں ہے سازوں میں سُر تال نہیں
محفل سازندوں کے ٹوٹے ٹوٹے تار ہیں کیوں

کس نے کہا ہے ختم ہوا ہے ظالم دور غلامی کا
یہ سچ ہے تو جسم فروشی کے یہ کاروبار ہیں کیوں

نہ اشٹام لکھے جاتے ہیں نہ بیعنامے ہوتے ہیں
طاقت والے کمزوروں کے مالک اور مختار ہیں کیوں

بدل گیا معیار وفا کا یا ہم ہیں نادان ابھی
دل رنجیدہ لب ترسیدہ اور نظریں آزاد ہیں کیوں

نکتہ ورانِ مشرق و مغرب سارے مل کر غور کرو
اِنسانوں کے ہاتھوں اِنساں آج بھی اِتنے خوار ہیں کیوں

ناداں ناقص جاہل سارے شہر کے حأکم مالک ہیں
اہلِ ہنر محنت کش دانا مُفلس اور نادار ہیں کیوں

موقع شناسوں کو حاصل ہے عزت اور اعزاز رفیق
باطل سے ٹکرانے والے زیبِ ستونِ دار ہیں کیوں

شاعر:محمد رفیق بھٹی
میرپور آزاد کشمیر

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here