کمشنر میرپور ڈویژن چوہدری مختار حسین نے کہا ہے کہ منگلا ڈیم سے ملحقہ کاکڑہ پوٹھہ بینسی ٹاؤن کی زمین گزشتہ دس ماہ سے کمزور ہوکر سرک رہی تھی جس سے کم و بیش 27پختہ مکانات میں دراڑیں پڑ گئی تھی جبکہ گزشتہ روز کروڑوں روپے کے 12پختہ مکانات اور سڑک زمیں بوس ہوگے جس سے متعلق کمشنر میرپور ڈویژن نے جنرل منیجر منگلا ڈیم آرگنائزیشن واپڈا منگلا کو مکتوب تحریر کردیاجبکہ عوامی شکایات پراس سال کے وسط میں بھی کمشنر میرپور ڈویژن نے جنرل منیجر منگلا ڈیم آرگنائزیشن واپڈا منگلا کو مکتوب لکھا تھا جس میں کاکڑہ پوٹھہ بینسی کی اراضی نمبر خسرہ 349 میں واقع آبادی کے متاثر ہونے والے 27 مکان کے مالکان کو متبادل لاگت اور متبادل اراضی کی فراہمی کی تحریک کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1240 ہونے کے باعث کاکڑہ پوٹھہ بنسی کی زمین کے اندرونی سطع میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ روز کروڑوں روپے مالیت کے12 پختہ مکانات اور سڑک زمین بوس ہوگے۔ اس دوران یہاں پر آباد لوگ پہلے ہی نقل مکانی کر کے تھے جس سے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ گاؤں کے مکینوں کے اربوں روپے کے مکانات زمین میں دھنس گے۔
کمشنر چوہدری مختار حسین اور ڈی آئی جی ڈاکٹر لیاقت علی نے موقع پر جاکر نقصانات کا جائزہ لیاجس کے بعد کمشنر میرپور ڈویژن چوہدری مختار حسین نے جنرل منیجر منگلا ڈیم آرگنائزیشن کو مکتوب تحریر کیا ہے کہ وہ فوری طور پر منگلا ڈیم کے ملحقہ موضع کاکڑہ پوٹھہ بینسی ٹاؤن کے مکانات اور سڑکات کے انہدام و تباہی کے تخمینہ اور متاثرہ علاقہ کا فوری جیولوجیکل سروے کروانے کا اہتمام کریں اور متاثرہ افراد کے مکانات کی متبادل تعمیر کے لئے معاوضہ جات کے تعین اور معاوضہ کے لئے فوری فنڈز کی فراہمی،متاثرہ مالکان کو آباد کاری کے لئے ہنگامی بنیادوں پر متبادل اراضی، ہر دو آبادیوں کے درمیان زمین بوس ہونے والے سڑک اور راستہ کی بحالی کے لئے فوری طور پر ہیوی مشینری کی فراہم کی جائے تاکہ متاثرہ دونوں آبادیوں کے درمیان رابطہ بحال کیا جاسکے جبکہ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کے اداروں کو بھی ہدایات دی ہیں کہ وہ متاثرہ علاقہ کی سڑک اور راستوں کی بحالی کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں۔









