غزل
یہ عبادت ہے عبادت رہے گی
تا دمِ مرگ محبّت رہے گی
اپنے کمرے کا یہی فائدہ ہے
کُھل کے رونے میں سہولت رہے گی
ابرِ باراں نہیں آبِ زم زم
جو حقیقت ہے حقیقت رہے گی
تُو ملے یا نہ ملے اے مرے دوست!
مجھے لیکن تری عادت رہے گی
میری ماں نے یہ دعا مانگی تھی
اس لیے رزق میں برکت رہے گی
رابطہ ختم ہُوا بھی تو کیا
تُجھ سے تاعمر محبّت رہے گی
ہاتھ پیلے ترے ہونے لگے ہیں
پیلی پیلی مری رنگت رہے گی
مرنے والا تو چلا جائے گا
مرنے والے کی ضرورت رہے گی
دیکھ لے مجھ سے محبّت میں تجھے
بے وفائی کی سہولت رہے گی
درد کا رزق برستا رہے گا
یعنی آنکھوں کی ضیافت رہے گی
ہم چلے جائیں گے دنیا سے مگر
زندہ اپنی یہ ظرافت رہے گی
عابد محمود عابد
میرپور آزاد کشمیر









